Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پٹی اتار کر پانی بہانا ممکن ہو لیکن دورانِ غسل اتارنا بھول جائیں تو نماز کا حکم

Fatwa no.
973-Web

Question

اگر کسی نے غسل کیا اور غسل سے فراغت کے بعد نماز شروع کر دی اور اس کو دوران نماز خیال آیا کہ اس کی انگلی میں زخم پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور دوز خم بہت بڑا نہیں بلکہ پٹی اتار کر اس کے نیچے پانی بہایا جا سکتا تھا، لیکن وہ دوران غسل اس کو اتارنا بھول گیا، اس صورت میں غسل کا کیا حکم ہو گا؟ کیا دوبارہ غسل لوٹانا پڑے گا یا پھر پٹی اتار کر صرف انگلی دھونا کافی ہو گا؟ نیز دوران نماز معلوم ہوا، تو اس نماز کا کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

اگر غسل فرض تھا اور زخم ایسا نہ تھا کہ جسے دھونا معاف ہو اور اتنا پانی نہیں بہا تھا کہ پٹی کے نیچے بہہ کر پٹی والا حصہ بھی دھل جائے تو غسل نہ ہوا ، وہ نماز شروع ہی نہیں ہوئی۔ پٹی کھول کر پٹی والا حصہ دھولے اور نئے سرے سے نماز پڑھے۔ دوبارہ غسل کی ضرورت نہیں۔ صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "کسی پھوڑے یاز خم یا فصد کی جگہ پر پٹی باندھی ہو کہ اس کو کھول کر پانی بہانے سے یا اس جگہ مسح کرنے سے یا کھولنے سے ضرر ہو یا کھولنے والا باندھنے والا نہ ہو تو اس پٹی پر مسح کرلے اور اگر پٹی کھول کر پانی بہانے میں ضرر نہ ہو تو دھونا ضروری ہے یا خود عضو پر مسح کر سکتے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.