Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل فرض ہونے کی صورت میں کون سے کام کرنا جائز ہے اور کون سے ناجائز
- Fatwa no.
- 972-Web
Question
جب غسل فرض ہو تو کون سے دینی یا نیک کام کرنے جائز ہیں اور ناجائز ہیں؟
Answer (beginning)
جس شخص پر غسل فرض ہو اس کو مسجد میں جانا، طواف کرنا، نماز پڑھنا، قرآن مجید چھونا، اگر چہ اس کا سادہ حاشیہ یا جلد یا چولی، چھوٹے یا بے چھوئے دیکھ کر باز بانی قرآن پاک پڑھنا یا کسی آیت کا لکھنا یا آیت کا تعویذ لکھنا یا ایسا تعویذ چھونا یا ایسی انگوٹھی چھونا یا پہنا جیسے حروف مقطعات کی انگوٹھی یہ سب حرام ہے۔ ایسا شخص کچھ کھانا پینا چاہے ، یا درود شریف پڑھنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ پہلے کلی کرلے۔ مزید تفصیل کے لئے کتاب ” نماز کے احکام "یا " بہار شریعت حصہ 2 سے غسل کا بیان کا مطالعہ فرمائیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.