Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

الیکٹریشن کا کم پیسوں میں چیز خرید کر زیادہ بل بنوانا

Fatwa no.
970-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) الیکٹریشن کسی کے گھر جب کام کرنے جاتا ہے تو کسٹمر اسے بجلی کا سامان لانے کیلئے رقم دیتا ہے ، وہ الیکٹریشن اپنے جاننے والے الیکٹرک اسٹور سے سامان لے کر آتا ہے، جس سے الیکٹریشن کو سامان ستا ملتا ہے، مثلاً: کوئی چیز اگر 120 کی عام گاہک کو ملتی ہے ، تو اس الیکٹریشن کو 90 کی ملتی ہے ، اور کسٹمر کو دکھانے کیلئے بل پہ رقم 120 ہی لکھی جاتی ہے۔ اگر کسٹمر اسی الیکٹرک اسٹور پر یہ چیز لینے جاتا، تو اسے 120 ہی کی ملنی تھی، تو سوال یہ ہے کہ جو الیکٹریشن کو ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے اور بل پر پوری رقم لکھی جاتی ہے ، تو کیا الیکٹریشن کا اوپر والے 30 روپے (یا جو بھی پرافٹ ہے) وہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

دکاندار کا کم قیمت پر چیز بیچنے کے باوجو دیل پر زیادہ قیمت لکھ دینا، نا جائز و گناہ ہے اور الیکٹریشن کا کسٹمر سے زیادہ رقم وصول کرنا بھی گناہ ہے اور اسے وہ زائد رقم حلال نہیں بلکہ اس کے حق میں حرام ہے اور اس کے مالک کو واپس کرنا لازم ہے۔ الیکٹریشن کا خریداری کا عمل وکالت ہے اور وکیل نے جو چیز جتنے میں خریدی وہ اتنے ہی میں موکل کے حق میں خرید نا شمار ہو گی۔ اس لئے اضافی رقم رکھنا الیکٹریشن کا حلال نہیں، یہ دھو کہ و غد ر ہے جو مسلمان کی شان نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.