Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جیب خرچ کی جمع ہوئی ایک لاکھ کی رقم پر زکوۃ کا حکم؟

Fatwa no.
960-Web

Question

بچی کی پاکٹ منی آٹھ دس سالوں میں ایک لاکھ روپے تک پہنچ جائے، تو کیا ان پیسوں پر زکاۃ فرض ہو گی ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر یہ بچی نابالغ ہے تو اس پر زکاة فرض نہیں ہے کہ بچہ یا بچی جب تک نا بالغ ہے اس پر زکاۃ میں اگر یہ بالغ تواس کہ یا نابالغ نہیں ہے۔ اور اگر بالغ ہے، اور اس کی ملکیت میں (آج بمطابق 31 مئی 2023) مذکورہ 1لاکھ رقم کے علاوہ اموال زکاۃ ( سونا یا چاندی یا پرائز بانڈ زیا یا سامان تجارت) میں سے بھی کچھ نہیں ہے جو تنہایا اس 1لاکھ رقم کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے ، تو اس صورت میں بھی اس پر زکاۃ فرض نہ ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.