Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مزارات پر چادر چڑھانے کی شرعی حیثیت

Fatwa no.
953-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) صاحب مزار کی تعظیم کی نیت سے مزار پر چادر چڑھانا، جائز ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

صاحب مزار کی تعظیم کی نیت سے مزار پر چادر چڑھانا، جائز و مستحسن ہے اس پر قرآن و حدیث میں کہیں ممانعت نہیں کی گئی۔ مشہور تفسیر قرآن روح البیان میں ہے : ” فبناء القباب علی قبور العلماء والاولياء والصلحاء ووضع الستور والعمائم والثياب على قبورهم امر جائز اذا كان القصد بذلك التعظيم في اعين العامة حتى لا يحتقروا صاحب هذا القبر، یعنی علماء، اولیاء اور صلحاء کی قبور پر قبہ بنانا، ان پر چادریں، عمامے اور کپڑے ڈالنا جائز کام ہے جبکہ اس کا مقصد لوگوں کی نگاہ میں صاحب مزار کی عظمت کو اجا گر کرنا ہو کہ وہ اس قبر کو حقیر نہ سمجھیں (روح البیان، جلد 3، صفحه:400،مطبوعه:بیروت) وَاللهُ أَعْلَمُ عَادَ جَكَ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.