Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی کام کے جلد ہوجانے کے لئے دعا کرنا کیا دعا میں جلدی مچانا ہے ؟
- Fatwa no.
- 951-Web
Question
ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے سنا تھا کہ دعا میں جلدی نہیں مچانی چاہئے ، اب اگر کسی کام کے جلدی ہو جانے کی حاجت ہو اور یوں دعا کی جائے کہ فلاں وقت تک یہ کام ہو جائے، تو کیا یہ جلدی مچانے میں آئے گا ؟
Answer (beginning)
اگر کسی کام کا وقت ہی مقید ہو کہ اس ٹائم پیریڈ تک لاسٹ ڈیٹ ہے ، تو ضر ور تا اس وقت تک کام ہو جانے کی دعا کی جاسکتی ہے، یہ دعا کی قبولیت میں جلدی مچانا نہیں ہے۔ ہاں یہ کہنا جلدی مچانا ہے کہ میں نے دعامانگی، اب تک قبول نہ ہوئی، ایسا کہنے کی اجازت نہیں۔ بندے کا کام ہے کہ دعا کرتار ہے اور نتیجہ اللہ پاک پر چھوڑ دے۔ اگر دعا کی قبولیت کے اسباب کا خیال رکھے گا، تو امید ہے کہ اللہ پاک دعا ضرور قبول فرمائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.