Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مالک کے کہنے پر گاہک سے جھوٹ بولنا کیسا ؟

Fatwa no.
949-Web

Question

(دعوت اسلامی) میں کسی کے پاس موبائل بنانے کا کام کرتا ہوں، اب کوئی گاہک خراب موبائل لاتا ہے، تو مالک کہتا ہے کہ اس کو کہو کہ دودن میں آپ کا موبائل بن جائے گا جبکہ موبائل کی خرابی کے پیش نظر ہمیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ یہ موبائل نہیں بن سکتا۔ اس صورت میں مالک کے کہنے پر میرا گاہک کو جھوٹ بولنے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

جھوٹ بولنا یاد ھو کادینا، ناجائز و گناہ ہے کام میں مالک کے کہنے پر بھی گاہک سے جھوٹ بولنا جائز نہیں۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”وإياكم والكذب، فإن الكذب يهدى إلى الفجور، وإن الفجور يهدى إلى النار وما يزال العبد يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا، یعنی جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے ، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور اس کی جستجو میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک بہت بڑا جھوٹالکھ دیا جاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.