Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض غسل کرنے کی صورت میں نماز کا وقت نکل جائے تو تیمم کرنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 940-Web
Question
ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد سویا اور احتلام ہو گیا، جب آنکھ کھلی، تو عصر کا ٹائم ختم ہونے میں تقریباً 12 سے 15 منٹ باقی تھے، اگر غسل کرتا ہے تو عصر کی نماز کا وقت نکل جائے گا، ایسی صورت میں کیا تیم کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
اگر غسل کر کے یعنی فرائض غسل ادا کر کے اتنا وقت بھی مل جائے کہ یہ شخص کپڑے پہن کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتا ہے، تو اس پر لازم ہے کہ غسل کر کے یوں ہی نماز ادا کرے، تمیم نہیں کر سکتا۔ مذکورہ صورت میں وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے تکبیر تحریمہ کہہ لی، تو نماز ادا ہو جائے گی، نماز کا بقیہ حصہ اگر وقت نکلنے کے بعد بھی ادا ہوا، تو بھی نماز ادا ہو جائے گی۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امحمد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں: "وقت میں اگر تحریمہ باندھ لیا، تو نماز قضا نہ ہوئی، بلکہ ادا ہے، مگر نماز فجر وجمعہ و عیدین کہ ان میں سلام سے پہلے بھی اگر وقت نکل گیا، نماز جاتی رہی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.