Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خراب بٹن والا لیپ ٹاپ بتائے بغیر بیچنا کیسا ؟

Answered by
ابو مصطفی محمد ماجد رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
939-Web

Question

لیپ ٹاپ جس کا ایک بٹن خراب تھا وہ اگر کسی گاہک کو بتائے بغیر بیچ دیا، تو کیا حکم ہے اور اگر خریدار کو پتہ چلنے پر وہ واپس کرانے آئے، تو بیچنے والے کے لئے کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں خریدار کو عیب بتائے بغیر بیچنا، دھو کہ ہے جو کہ ناجائز و گناہ ہے اور ایسی صورت میں خریدار کو خیار عیب حاصل ہوتا ہے یعنی وہ اس عیب کی وجہ سے چیز واپس کر سکتا ہے اور اس کے واپس کرنے کی صورت میں بیچنے والے کو وہ چیز واپس لینا ہو گی۔ بہار شریعت میں ہے : " طبیع میں عیب ہو تو اس کا ظاہر کر دینا بائع ( بیچنے والے) پر واجب ہے، چھپانا حرام و گناہ کبیرہ ہے۔ یوہیں شمن کا عیب مشتری پر ظاہر کر دینا واجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.