Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پھل نہ کھانے کی قسم کھانے والا اگرپھل کھالے تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 938-Web
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ کوئی پھل نہیں کھائے گا، اب اس کا دل چاہتا ہے پھل کھاؤں، تو کیا اس پر قسم کا کفارہ دینا لازم ہو گا ؟ ہو گا۔
Answer (beginning)
اگر کسی بھی قسم کا پھل نہ کھانے کی قسم کھائی، تو کوئی بھی پھل کھانے سے قسم ٹوٹ جائے گی اور قسم کا کفارو دینا قسم کا کفار و ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا یا انہیں دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا لازم ہوتا ہے اور اسے اس بات کا بھی اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو کھانے کے بدلے میں ہر مسکین کو الگ الگ ایک صدقہ فطر کی مقدار یعنی آدھا صاع ( دو کلو میں اسی گرام کم) گندم یا ایک صاع ( چار کلو میں ایک سو ساٹھ گرام کم) جو یا کھجور یا کشمش دے دے یا ان چاروں میں سے کسی کی قیمت دے دے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.