Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حج کر لینے کے بعد حج فرض ہوا تو کیا دوبارہ حج کرنا ہوگا؟
- Fatwa no.
- 934-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے والد مرحوم اور والد نے حج کیا ہوا ہے، لیکن جب انہوں نے حج کیا تھا اس وقت ان پر حج فرض نہیں تھا، میرے والد قافلہ کے ساتھ بطور ڈرائیور حج پر گئے تھے اور والدہ ان کے ساتھ تھیں۔ اب میری والدہ کے پاس اتنی رقم موجود ہے جس سے حج فرض ہو جاتا ہے، تو کیا اس صورت میں میری والدہ پر دوبارہ حج کرنا فرض ہو گا ؟
Answer (beginning)
آپ کی والدہ نے اگر اس وقت فرض حج کی نیت کی تھی یا صرف حج کی نیت کی تھی، نفل یا فرض کچھ معین نہیں کیا تھا تو ان کا وہی حج فرض حج کی جگہ ہو گیا اور اب دوبارہ حج کرنا فرض نہیں ہو گا۔ اور اگر اس حج میں نفلی حج کی نسبت کی تھی تو اب صاحب نصاب ہونے کی صورت میں دوبارہ حج کرنا فرض ہو گا جبکہ حج کی ادائیگی واجب ہونے کی دیگر شرائط بھی پائی صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: "اگر فقیر ہو جب بھی اسے حج فرض کی نیت کرنی چاہئے ، نفل کی نیت کرے گا، تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا اور مطلق حج کی نیت کی یعنی فرض یا نفل کچھ معین نہ کیا، تو فرض ادا ہو گیا (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.