Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شب بیداری والی راتوں میں اجتماع کرنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 923-Web
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) شب بیداری والی راتوں میں اجتماع کو مکروہ لکھا گیا ہے کیا فی زمانہ بھی یہی حکم ہے ؟
Answer (beginning)
شب بیداری والی راتوں میں لوگوں کے اجتماع کو مکروہ نہیں لکھا گیا بلکہ کثیر جماعت کے ساتھ نفل نماز کی جماعت کو مکر وہ فرمایا گیا ہے اور اس کی بھی کئی اکا بر علماء کی طرف سے اجازت دی گئی ہے اور اب جبکہ لوگوں کا عبادتوں کی طرف رجمان ہی نہیں ہے تو لوگوں کے جمع ہو کر نماز پڑھنے میں کراہت تنزیہی بھی نہ ہو گی۔ اس مسئلہ کی مکمل تنقیح و توضیح کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ اللہ المنان فرماتے ہیں: ”صلوۃ الرغائب وصلوة البرائة وصلوة القدر کہ جماعات کثیر و کے ساتھ بکثرت بلاد اسلام میں رائج تھیں متاخرین کا ان پر انکار اس نظر سے ہے کہ عوام سنت نہ سمجھیں اور بعض ناس کا غلو و افراط مسموع…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.