Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسرے کمرے میں موجود شخص پر چھینک کا جواب دینے کا حکم

Fatwa no.
927-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک کمرے میں موجود کسی شخص کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے اور اس کی آواز دوسرے کمرے میں موجود کوئی شخص سے ، تو کیا اس شخص پر اس کا جواب دینا واجب ہو گا اور اگر جواب نہیں دیاتو کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

اگر چھینکنے والے شخص نے چھینک آنے کے بعد الحمد للہ کہا اور دوسرے کمرے میں موجود شخص نے سنا، تو سننے والے پر واجب ہے کہ جواب دے،اگر جواب نہیں دے گا، تو گناہ گار ہو گا۔ رد المحتار میں ہے : ” واذا عطس من وراء الجدار فحمد الله تعالى يجب على كل من سمعه التشميت “ یعنی جب دیوار کے پیچھے سے کسی نے چھینک مار کر اللہ کی حمد کی ، تو ہر سننے والے پر اس کا جواب دینا واجب ہو جائے گا۔ (ردالمحتار، جلد 9 صفحه 684، مطبوعہ: کوئٹه) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ”دیوار کے پیچھے کسی کو چھینک آئی اور اس نے الحمد للہ کہا، تو سننے والا اس کا جواب دے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.