Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کان سے نکلنے والے پانی سے وضو کا حکم
- Fatwa no.
- 926-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کان سے نکلنے والا پانی وضو کو توڑے گا یا نہیں اور اس کی پاکی و ناپاکی سے متعلق کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
کان سے نکلنے والے پانی میں اگر خون یا پیپ شامل نہیں اور یہ پانی بغیر درد کے نکلے، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اور یہ پانی ناپاک بھی نہیں ہو گا۔ ہاں اگر یہ پانی درد کے ساتھ نکل رہا ہے یا اس میں خون یا پیپ شامل ہے ، تو اب اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور اس صورت میں نکلنے والا پانی ناپاک بھی ہو گا۔ بحر الرائق میں ہے: ”والقيح الخارج من الاذن او الصديدان كان بدون الوجع لا ينقض ومع الوجع ينقض لانه دليل الجرح روى ذلك عن الحلواني اه وفيه نظر بل الظاهر اذا كان الخارج قيحااو صديداً ينقض سواء كان مع وجع او بدونه لا نهما لا يخرجان الاعن علة، نعم هذا التفصيل حسن فيما اذا كان الخارج ماء ليس غیر ، یعنی اگر کان سے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.