Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بار بار توبہ و تجدیدِ ایمان کر سکتے ہیں؟

Fatwa no.
920-Web

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کیا احتیاطی طور پر بار بار تو بہ و تجدید ایمان کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

احتیاطاً بار بار توبہ و تجدید ایمان کرنے میں حرج نہیں مگر اپنے آپ کو مسلمان ہی سمجھے ، اصل ایمان میں یعنی اپنے سلمان ہونے میں شک نہ کرے۔ حدیث پاک میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ” جددوا ایمانکم اکثروا من قول لا الہ الا اللہ اپنے ایمان کی تجدید کر لیا کرو، لا الہ الا اللہ کی کثرت کیا کرو۔“ (مسنداحمد بن حنبل، مسندابی هریرة، جلد2، صفحه 359، دارالفکر بیروت) امیر اہلسنت علامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری دامت برکا تہم العالیہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: "جی ہاں ! دن میں چاہیں تو 112 بار (توبہ و تجدید ایمان) کر لیجئے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.