Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کھڑے ہوکر پانی پی لیا تو کیا اسے قے کر کے نکالنا ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 917-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے کھڑے ہو کر پانی پیا تو کیا انگلی ڈال کر قے کرناضروری ہے ؟
Answer (beginning)
بیٹھ کر پانی پینا سنت اور کھڑے ہو کر پانی پینا خلاف سنت ہے ، حدیث پاک میں یہاں تک ارشاد فرمایا گیا جس نے کھڑے ہو کر پانی پیا تو وہ قے کر دے لیکن یادر ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں، لہذا جس نے کھڑے ہو کر پانی پی لیا تو وہ گناہ گار نہیں ہو گا اور اس پر قے کرنا واجب نہیں تاہم اس صورت میں کوئی قے کرے تو ایسا کرنا مستحب ہے۔ مشکوۃ المصابیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لا یشر بن احد منكم قائما فمن نسی منکم فلیستقی، یعنی تم میں سے کوئی کھڑے ہو کر پانی ہر گز نہ پئے، پس جو بھول جائے، تو اسے چاہئے قے کر دے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.