Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عدت کے دوران سوتیلے بیٹے سے پردے کا حکم
- Fatwa no.
- 916-Web ::
Question
کیا عدت کے دوران سوتیلے بیٹے یعنی اپنے شوہر کی دوسری بیوی سے ہونے والے لڑکے سے بھی پردہ کرنا ضروری ہے؟
Answer (beginning)
شوہر کا بیٹا محارم میں داخل ہے لیکن یہ ان محارم غیر نسی میں سے ہے جن سے نکاح کی حرمت علاقہ مصاہرت کی وجہ سے ہوتی ہے ، اگر کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ نہ ہو، تو عدت اور علاوہ عدت بھی اپنے شوہر کے بیٹے سے پردہ کرنالازم نہیں۔ 66 اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: "وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ترجمہ کنز الایمان : اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو۔ (القرآن،پارہ 4، سورۂ نساء، آیت 22) اس آیت کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”مسلمانوں پر اپنی اصول کی منکوحہ بیویاں حرام ہیں۔ باپ، دادا، نانا، پر دادا اور پر ناناوغیر ہم کی بیویاں حرام ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.