Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چھوٹے ٹینک میں نجاست خفیفہ گِر جائے تو حکم

Answered by
سیدمسعود علی عطاری مدنی فتوی نمبر: 907-Web
Fatwa no.
907-Web

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ٹینک دو در دو سے کم ہو اور اس میں نجاست مخفیفہ والی بیٹ گر جائے تو کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں ٹینک کا سارا پانی ناپاک ہو جائے گا کیونکہ وہ دردہ سے کم پانی میں اگر تھوڑی سی بھی نجاست خفیفہ یا نجاست غلیظہ گر جائے تو وہ سارا پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” ان المائع متى اصابته نجاسة خفيفة او غليظة وان قلت تنجس ولا يعتبر فيه ربع ولا در هم یعنی مائع چیز میں جب نجاست خفیفہ یا غلیظہ چلی جائے اگر چہ نجاست کم ہو، تو وہ درهم ، اگرچہ مائع چیز نجس ہو جائے گی اور اس میں چوتھائی یا درہم کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.