Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نجس جگہ کا یقینی علم نہ ہو تو غالب گمان کر کے کپڑے پاک کرنا
- Fatwa no.
- 898-Web :
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کپڑوں پر دو سے تین جگہ پیشاب کے چھینٹے پڑے ، لیکن جب کپڑے پاک کرنے لگا، تو پیشاب خشک ہو چکا تھا اور کپڑوں پر نجاست ظاہر نہیں ہو رہی تھی اور نجاست کے متعلق مختلف خیال آرہے تھے کہ فلاں جگہ ناپاک ہے یا فلاں جگہ ناپاک، پھر جس جگہ غالب گمان تھا اس حصے کو پاک کر لیا، کیا اس صورت میں کپڑے پاک ہو گئے ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صوت میں جب کہ یہ یاد نہیں تھا کہ کپڑے کا کون سا حصہ ناپاک ہے اور ظن غالب قائم کر کے مخصوص حصہ دھولیا، تو کپڑا پاک ہو گیا۔ ہاں اگر بعد میں غلطی معلوم ہوئی، تو اس وقت نجس حصہ کو دھولینا کافی ہے، جو نمازیں اس کپڑے میں پڑھی ہوں گی ، انہیں دوبارہ پڑھنا لازم نہیں۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہو گیا اور یہ یاد نہیں کہ وہ کون سی جگہ ہے تو بہتر یہی ہے کہ پوراد ھو ڈالیں، یعنی جب بالکل ہی معلوم نہ ہو کہ کس حصہ میں ناپاکی لگی ہے۔۔۔ اور اگر اندازے سے سوچ کر اس کا کوئی حصہ دھولے جب بھی پاک ہو جائے گا۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.