Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عید کی نماز کے لئے اذان و اقامت کا حکم

Fatwa no.
887-Web
Issued
29 شعبان المعظم 1444ھ / 22 مارچ 2023ء

Question

(دعوت اسلامی) عید الفطر اور عید الا ضحی کی نمازوں کے لئے اذان دے سکتے ہیں یا نہیں ؟

Answer (beginning)

عیدین میں اذان واقامت نہیں کہی جائے گی۔ حلبی کبیری میں ہے: ” یصلی الامام بالناس ركعتين بلا اذان ولا اقامة لما في الصحيحين: سئل ابن عباس: شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العبد، قال : نعم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ثم خطب ولم يذكر اذانا ولا اقامة ولانه المتوارث وعليه الاجماع “ یعنی امام لوگوں کو بلا اذان واقامت ( عیدین کی ) دور کعتیں پڑھائے گا، کیونکہ صحیحین ( بخاری و مسلم ) میں ہے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں حاضر ہوئے ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.