Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر حیض آجائے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟
- Fatwa no.
- 896-Web ::
- Issued
- 16 رمضان المبارک 1444ھ / 07 اپریل 2023 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آخری عشرے کا اعتکاف اسلامی بہن کر رہی ہو ، اس دوران حیض آجانے کی وجہ سے اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے ، تو کیا اعتکاف کی جگہ سے باہر جاسکتی ہے ؟ اور حیض کی وجہ سے جو اعتکاف ٹوٹ گیا، تو بعد میں اس کی قضا کیسے کرے؟
Answer (beginning)
رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اعتکاف کے دوران اگر عورت کو حیض آجائے تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ جب اعتکاف باقی نہ رہا، تو اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرنے کی حاجت نہیں ہے، اس جگہ سے باہر نکل سکتی ہے۔ نیز مذکورہ صورت میں اعتکاف ٹوٹنے پر بعد میں ایک دن کی (بحالت روزہ) قضا کرے، پورے دس دن کی قضا واجب نہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے : ”اعتکاف کی قضا صرف قصد اتوڑنے سے نہیں بلکہ اگر عذر کی وجہ سے چھوڑا مثلاً بیمار ہو گیا یا بلا اختیار چھوٹا مثلاً عورت کو حیض یا نفاس آیا یا جنون و بے ہوشی طویل طاری ہوئی، ان میں بھی قضا واجب ہے۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.