Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نصاب سے کم سونا اور پندرہ ہزار کی رقم پر زکوۃ کا حکم؟

Fatwa no.
895-Web
Issued
16 رمضان المبارک 1444ھ / 07 اپریل 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کے پاس نصاب سے کم سونا ہو اور ساتھ ہی کچھ رقم بھی ہو، جیسے چار یا پانچ تولہ سونا اور 15000 روپے اور اس پر سال گزر گیا ہو، تو کیا اس پر زکو ہو گی ؟ اگر ز کوۃ ہو گی تو اس کی وجہ کیا ہے ؟ کیونکہ یہ سونا تو نصاب کو نہیں پہنچ رہا اور چاندی بھی موجود نہیں ہے۔

Answer (beginning)

شریعت مطہر ہ کا یہ اصول ہے کہ جب سونا نصاب سے کم ہو لیکن دیگر اموال زکوۃ ( چاندی، کرنسی، پرائز بانڈز، یا سامانِ تجارت) میں سے بعض یا کل کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتا ہے ، تو دیگر شرائط کی موجودگی میں سال گزرنے پر جس کی ملکیت میں یہ ہو اس پر زکو فرض ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت مطہرہ نے ہر ایک کا خیال رکھا ہوا ہے ، اور یوں باہم اموال ملانے کی صورت میں فقراء کیلئے نفع ہے، لہذا شریعت مطہرہ نے اس کا حکم دیا ہے، اور ہم اس کے پابند ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.