Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ترتیب کے ساتھ وضو نہ کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 884-Web :
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اگر وضو وضو تر تیب سے نہیں کیا، تو وضو ہو جائے گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
ترتیب کے ساتھ وضو کر ناسنت مؤکدہ ہے، اگر خلاف ترتیب وضو کر لیا تو وضو ہو جائے گا، لیکن جان بوجھ کر خلاف ترتیب وضو کرنا برا عمل ہے ، اور اس کی عادت بنا لینا، ناجائز و گناہ ہے۔ جوہرہ نیرہ میں ہے: ” الترتيب عندناسنة مؤكدة على الصحیح“ ترجمہ : صحیح قول کے مطابق ہمارے نزدیک وضو میں ترتیب سنت مؤکدہ ہے۔ (الجوهرةالنيرة،جلد1،صفحہ54،مطبوعه بيروت) بہار شریعت میں ہے : پورے سر کا ایک بار مسح کرنا اور کانوں کا مسح کرنا اور ترتیب کہ پہلے موٹھ ، پھر ہاتھ دھوئیں، پھر سر کا مسح کریں، پھر پاؤں دھوئیں ،اگر خلاف ترتیب وضو کیا یا کوئی اور سنت چھوڑ گیا، تو وضو ہو جائے گا، مگر ایک آدھ دفعہ ایسا کرنا بُرا ہے اور ترک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.