Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پیدائش کے بعد انتقال کر جانے والے بچے کے لئے اذان اور نمازِ جنازہ کا حکم

Fatwa no.
881-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر بچے کا پیدا ہوتے ہی انتقال ہو جائے ، تو کیا اس کے کان میں اذان دی جائے گی اور نام رکھا جائے گا اور جنازہ پڑھنے کا کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں بچے کے کان میں اذان دینے کی حاجت نہیں کہ اذان واقامت کہنے کا جو فائدہ تھا ( یعنی بلاؤں اور شیطانی آفات سے محفوظ ہونا ) وہ باقی نہیں رہا۔ بہار شریعت میں ہے : " جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان واقامت کہی جائے اذان کہنے سے ا ان شاء اللہ تعالٰی بلائیں دور ہو جائیں گی۔ (بہار شریعت، حصہ 15، صفحہ 355، مکتبۃ المدینہ، کراچی) البتہ جب یہ بچہ زندہ پیداہوا اور پھر اس کا انتقال ہوا، تو اس صورت میں اس کو غسل و کفن دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی، جہاں تک نام کا تعلق ہے، تو نام بہر صورت رکھا جائے گا خواہ مردہ ہی پیدا ہوا یا پیدا ہونے کے بعد انتقال…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.