Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا روزوں کا فدیہ اپنی بیٹی کو دے سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 880-Web
- Issued
- 03 رمضان المبارک 1444ھ / 25 مارچ 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا شیخ فانی والدین ( جن کو روزوں کی جگہ فدیہ دینے کی اجازت ہے) اپنی مستحقہ بیٹی کو اپنے روزوں کا فدیہ دے سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
اپنی بیٹی کو روزوں کا فدیہ دینا شرعاً جائز نہیں ہے، اگر چہ وہ مستحقہ ہو۔ اگر دے دیا، تو ادا نہیں ہو گا، کیونکہ روزوں کے بدلے فدیہ دینا صدقات واجبہ میں سے ہے، اور صدقات واجبہ اپنے اصول (ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی و غیره اوپر تک ) اور فروع ( بیٹا، بیٹی ، پوتا، پوتی، نواسہ ، نواسی وغیرہ نیچے تک) کو دینا جائز نہیں ہے، نیز دینے کی صورت میں ادا نہیں ہوتے۔ البتہ بیٹی کا شوہر اگر مستحق ہے اور اسے فدیہ کی رقم دی جائے، تو یہ جائز ہے ، اور یوں فدیہ ادا ہو جائے گا۔ اب وہ چاہے تو کہیں بھی اس رقم کو استعمال کر لے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.