Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضو میں کلی کرنے کا حکم

Fatwa no.
878-Web

Question

وضو میں کلی کرنا سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟

Answer (beginning)

وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا سنت مؤکدہ ہیں ان کے چھوڑنے کی عادت بنانا گناہ ہے۔ در مختار میں ہے: ” و هماسنتان مئوکدتان یعنی اور وہ دونوں ( یعنی کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا) سنتِ وو مئوکدہ ہیں۔ (ردالمحتار على الدر المختار، کتاب الطهارة،جلد1،صفحہ 253،254،لاہور) فتاوی رضویہ میں ہے : ”وضو میں اس کے ترک کی عادت ڈالے سے سنت چھوڑنے ہی کا گناہ ہو گا کہ مضمضہ واستنشاق بمعنی مذکور دونوں وضو میں سنت مؤکدہ ہیں۔۔۔ اور سنتِ مؤکدہ کے ایک آدھ بار ترک سے اگرچہ گناہ نہ ہو عتاب ہی کا استحقاق ہو مگر بار ہا ترک سے بلاشبہ گنہگار ہوتا ہے۔۔ تاہم وضو ہو جاتا ہے۔“(فتاوی رضویہ، جلد 1۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.