Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فرض نماز کی پہلی یا تیسری رکعت کے قیام میں التحیات پڑھنے کا حکم

Fatwa no.
874-Web

Question

كاحكم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی عورت نے پہلی رکعت یا تیسری رکعت کے قیام میں التحیات پڑھ لی، تو کیا حکم ہوگا؟ اگر سجدہ سہو کرنا تھا اور وہ بھی نہیں کیا، تو نماز دوبارہ لوٹانی ہو گی ؟

Answer (beginning)

پہلی رکعت کے قیام میں اگر سورۂ فاتحہ سے پہلے تشہد پڑھ لیا، تو سجدہ سہو لازم نہیں ہے،البتہ اگر سورہ فاتحہ کے بعد بھولے سے تشہد پڑھا، تو سجدہ سہو لازم ہو جائے گا، اور اگر سورہ فاتحہ کے بعد جان بوجھ کر پڑھایا بھولے سے پڑھا تھا، لیکن سجدہ سہو نہ کیا، تو اس نماز کا اعادہ واجب ہو گا۔ نیز فرض نماز کی تیسری یا چوتھی رکعت میں تشہد پڑھنے سے سجدہ سہولازم نہیں ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ولو تشهد فى قيامه قبل قراءة الفاتحة فلاسهو عليه وبعدها يلزمه السهو، وهو الاصح ، لان بعد الفاتحة محل قراءة السورة فاذا تشهد فيه فقد اخر الواجب وقبلها محل الثناء كذا في التبيين ولوتشهد فى الاخريين لا يلزمه السهو ترجمہ :…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.