Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کی حالت میں کھانے کی چیز نگلنے کا حکم

Fatwa no.
862-Web
Issued
07 رجب المرجب 1444ھ /30 جنوری 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز کے دوران اگر کوئی کھانے کا ذرہ وغیر ہ منہ میں آجائے تو اسے نگل سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

نماز کے دوران منہ کے باہر سے کچھ کھانا گرچہ وہ کتنا ہی کم ہو ہاں تک کہ تیل بھی، نماز کو توڑ دیتا ہے اور اگر نماز شروع کرنے سے پہلے ہی منہ میں کچھ رہ گیا تھا، تو اسے بھی دور ان نماز لگانا منع ہے۔ اگر اسے نگل لیا تو اس کے چنے سے کم ہونے کی صورت میں نماز نہیں ٹوٹے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے اور اگر چنے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ بہار شریعت میں ہے : " نماز کے اندر کھانا پینا مطلقاً نماز کو فاسد کر دیتا ہے، قصداً ہو یا بھول کر، تھوڑا ہو یازیادہ، یہاں تک کہ اگر تل بغیر چبائے نگل لیا یا کوئی قطرہ اُس کے مونھ میں گرا اور اس نے نگل لیا، نماز جاتی رہی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.