Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والد کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے کا والد کی وراثت میں حصہ
- Fatwa no.
- 836-Web
Question
(دعوت اسلامی) اگر کوئی بیٹا اپنے والد کی زندگی میں ہی فوت ہو جائے، تو کیا اسے یا اس کی اولاد کو اس کے والد کی وراثت سے حصہ ملے گا جبکہ والد کے دوسرے بیٹے بھی موجود ہوں؟
Answer (beginning)
میت کے وارث وہ لوگ ہوتے ہیں، جو اس کی موت کے وقت زندہ ہوں، لہذا اگر کوئی بیٹا اپنے والد کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا، تو والد کی وفات کے بعد والد کی وراثت میں اس فوت ہو جانے والے بیٹے کا کوئی حصہ نہیں ہو گا، جب اس فوت ہونے والے بیٹے کا کوئی حصہ نہیں، تو اس کے والد کے دیگر بیٹوں کی موجودگی میں فوت شدہ بیٹے کی اولاد کا بھی دادا کی جائیداد میں بطور وراثت کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ ہاں اگر بالغ ورثاء اپنے حصوں میں سے اپنی رضامندی سے اس کی اولاد کو کچھ دیں، تو ثواب پائیں گے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.