Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ریح خارج ہونے نہ ہونے میں شک ہو، تو وضو کا حکم
- Fatwa no.
- 851-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وضو ہوتا ہے اور ریح خارج ہونے والی بھی کوئی حالت نہیں ہوتی، مگر مقام ریح اور ارد گرد کی جگہ گرم محسوس ہوتی ہے، آپ یہ رہنمائی فرمادیں کہ اگر یہ کنفرم ہو کہ ریح خارج نہیں ہوئی یا شک ہو کہ ریح خارج ہوئی ہے یا نہیں ؟ تو اس صورت میں وضو کا کیا حکم ہو گا۔
Answer (beginning)
وضو کی حالت میں جب اس بات کا یقین ہو کہ ریح خارج نہیں ہوئی یار یح خارج ہونے کا محض شک وشبہ ہو ، تو اس صورت میں وضو نہیں ٹو تھا۔ لہذا جب تک ریح خارج ہونے کا یقین نہ ہو ، تو محض مقام ریح کے گرم ہونے سے وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں ہو گا۔ جامع صغیر میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان الشيطان لياتي احدكم وهو في صلوته فياخذ بشعره من دبره فیمدها فیری انه قد احدث ، فلا ينصرف حتى يسمع صوتا او يجد ريحا یعنی تم میں کوئی نماز میں ہوتا ہے اور شیطان اس کے پاس آکر اس کے پیچھے سے کوئی بال کھینچتا ہے جس سے وہ خیال کرنے لگتا ہے کہ اس کا وضو جاتا رہا، ایسا ہو تو وہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.