Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سیکنڈ ہینڈ چیزیں خرید کر بیچنا اور ہر عیب سے بری ہونا

Fatwa no.
850-Web
Issued
24 جمادی الثانی 1444ھ / 17 جنوری 2023ء

Question

(دعوت اسلامی) میرا ایک دوست سیکنڈ ہینڈ چیزیں خریدتا اور سیل کرتا ہے۔ جب وہ یہ چیزیں آگے بیچتا ہے، تو گاہک سے یہ کہہ دیتا ہے که چیز دیکھ کر ابھی تسلی کر لو، بعد میں اس کے اندر کوئی خرابی یا عیب نکالا، تو میری ذمہ داری نہیں ہو گی ، کیا اس کا یہ طریقہ اختیار کر کے چیزیں بیچنا درست ہے؟

Answer (beginning)

اگر وہ شخص گاہک کو چیز فروخت کرتے وقت یہ کہہ دیتا ہے کہ اس چیز میں جتنے بھی عیب ہیں میں ان سب سے بری ہوں، ابھی چیک کر لو بعد میں کوئی عیب نکلا، تو میری کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی، تو اس طرح کرنا، جائز ہے۔ اب اگر خریدار اپنی رضامندی سے وہ چیز خرید لیتا ہے، تو اسے کسی عیب کی وجہ سے واپس کرنے کا حق نہیں رہے گا۔ بہار شریعت میں ہے : ” کوئی چیز بیچ کی اور بائع نے کہدیا کہ میں ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، یہ بیچ صحیح ہے اور اس مبیع کے واپس کرنے کا حق باقی نہیں رہتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.