Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرکے نہانے کا حکم

Fatwa no.
849-Web
Issued
20 جمادی الثانی 1444ھ / 13 جنوری 2023ء

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کیا کپڑے اتار کر نہانے کی صورت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا گناہ ہے ؟

Answer (beginning)

غسل کے وقت اگر ستر کھلا ہوا ہو تو قبلہ رخ ہونا مکروہ تنزیہی ہے لیکن گناہ نہیں اور اگر ستر ڈھانپا ہوا ہو، تو کراہت بھی نہیں۔ ردالمحتار میں ہے: ” مرفی الغسل ان من أدا به ان لا يستقبل القبلة لانه يكون غالبا مع كشف العورة حتى لو كانت مستورة لاباس بہ غسل ( کے باب ) میں گزر چکا کہ اس کے آداب میں سے یہ ہے کہ قبلہ کو رخ نہ کرے اس لیے کہ غسل عمو ماستر کھول کر ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر ستر چھپا ہوا تو کوئی حرج نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.