Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پیشاب یا خون چمکنے کے بعد پانی میں ہاتھ ڈالا تو پانی مستعمل ہوگا یا نہیں؟

Fatwa no.
848-Web
Issued
04 جمادی الثانی 1444ھ /28دسمبر 2022ء

Question

ہوگایانہیں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) پیشاب یا خون چم کا اس کے بعد ہاتھ پانی میں ڈال دیا، تو کیا وہ پانی مستعمل ہو گیا؟ اور اس پانی کو قابل استعمال بنانے کا کیا طریقہ ہے؟

Answer (beginning)

پیشاب کا صرف شرمگاہ کے سوراخ کے منہ پر ظاہر ہونا ہی وضو توڑنے کیلئے کافی ہے یعنی پیشاب کے صرف نکلنے سے ہی وضوٹوٹ جاتا ہے، بہنا ضروری نہیں، جبکہ خون یا پیپ یاز رد پانی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اگر کہیں سے نکل کر ہیں اور اس بننے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وضو یا غسل میں دھو نافرض ہے، تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی صرف چمکا یا بھرا اور بہا نہیں کہ بہنے کے قابل نہ تھا، تو وضو نہیں ٹوٹا اور اگر بہا مگر ایسی جگہ بہ کر نہیں آیا جس کا دھونا فرض ہو ، تو وُضو نہیں ٹوٹا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.