Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عشا و عصر کی سنتِ قبلیہ کافی عرصہ سے ادا نہیں کی تو کیا حکم ہوگا ؟
- Fatwa no.
- 856-Web ::
- Issued
- 28 جمادی الثانی 1444ھ /21 جنوری 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت نے کافی عرصہ سے عشاء عصر کی سنت قبلہ ادا نہیں کیں، کیا وہ گناہ گار ہو گی ؟
Answer (beginning)
عصر اور عشا کی سنت قبلیہ سنت غیر مؤکدہ ہیں یعنی انہیں پڑھنا ثواب ہے مگر لازم نہیں اور نہ پڑھنا، نا پسندیدہ ہے مگر گناہ نہیں اگر چہ نہ پڑھنے کی عادت ہو۔ بہار شریعت میں ہے : ”سنتِ غیر مؤ گدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعید عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں، اس کا کر نا ثواب اور نہ کرنا اگر چہ عادہ ہو موجب عتاب نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.