Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کا مسجد بیت کے علاوہ اعتکاف کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 859-Web
- Issued
- 28 جمادی الثانی 1444ھ /21 جنوری 2023ء
Question
جس جگہ مسجد بیت کی نیت نہیں اس جگہ اسلامی بہن اعتکاف کر سکتی ہے ؟ اور پچھلے سالوں میں اس طرح کسی جگہ اعتکاف کیا ہو، تو اعتکاف مانا جائے گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
اسلامی بہنیں مسجد بیت (یعنی گھر میں نماز پڑھنے کیلئے جو جگہ مختص کی ہو ) میں ہی اعتکاف کر سکتی ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے : "وأما المرأة فذكر فى الأصل أنها لا تعتكف إلا في مسجد بيتها ترجمہ : بیتھا‘ترجمہ: بہر حال عورت کا اعتکاف کرنا، تو ظاہر الروایہ (یعنی مفتی بہ قول کے مطابق ) وہ مسجد بیت کے علاوہ (کسی بھی جگہ ) اعتکاف نہیں کر سکتی۔ (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 170، مطبوعہ، ہند) مذکورہ صورت میں ان کا پچھلے سالوں میں اعتکاف کرنا شمار نہ ہو گا، کہ مسجد بیت کے علاوہ ان کا اعتکاف ہوتا ہی نہیں ہے اور چونکہ ان کے اعتکاف کی ابتدا ہی نہیں ہوئی، اس لئے اسے مکمل کرنے یا توڑ دینے سے متعلق حکم کی حاجت…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.