Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اپنی دوکان کے سامنے سے رقم ملی تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 857-Web
- Issued
- 21 رجب المرجب 1444ھ / 13 فروری 2023ء
Question
میری شاپ پر ایک ہی کسٹمر آیا، اس کے علاوہ کوئی نہیں آیا، آنے کے بعد وہ دوسری دوکان پر چلا گیا، اسی دوران میں نے اپنی شاپ کے سامنے کچھ رقم گری ہوئی دیکھی جو میں نے اٹھالی کہ شاید اسی کسٹمر کی گری ہوگی، میں نے اس کسٹمر سے معلوم کیا، تو اس نے کہا کہ یہ رقم میری نہیں گری۔ اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے جبکہ مجھے معلوم ہے کہ یہ رقم میرے علاوہ کسی اور شخص کی گری ہے ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جبکہ آپ کو یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ پیسے کسی سے رہ گئے ہیں اور ان کے مالک کا علم نہیں تو یہ لقطہ ہے اور لفظہ کا حکم یہ ہے کہ اصل مالک کی تلاش کے لئے ممکنہ حد تک تشہیر کی جائے۔ آپ کو چاہیئے کہ دکان میں یہ آنے جانے والوں سے معلوم کریں یاد کان پر لکھ کر لگا دیں کہ اگر کسی کی کوئی چیز گم ہوئی ہے ، تو رابطہ کرے۔ اگر مالک مل جائے، تو اسے یہ رقم دے دیں، یوں آپ بری الذمہ ہو جائیں گے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.