Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جو رقم صدقہ کی نیت سے رکھی ہو اس سے کسی کو قرض حسنہ دینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 833-Web
Question
ہم گھر میں کچھ رقم اس نیت سے الگ رکھتے رہتے ہیں کہ ہم اس کو نیک کاموں میں خرچ کریں گے ،سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان جمع ہونے والی رقم میں سے کچھ رقم کسی کو قرض حسنہ کے طور پر دے سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! نیک کاموں میں خرچ کرنے کے لئے رکھی گئی اپنی ذاتی رقم سے کسی کو قرض حسنہ دے سکتے ہیں اور اللہ کی رضا وخوشنودی مقصود ہو ، تو اس پر ثواب بھی حاصل ہو گا۔ کنز العمال میں ہے حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ” أن رجلا أتى ابن عمر، فقال له: يا أبا عبد الرحمن إني أسلفت رجلا سلفا، واشترطت عليه قضاء أفضل مما أسلفته، فقال ابن عمر: ذلک الربا، قال: فكيف تأمرني؟ قال: السلف على ثلاثة وجوه، سلف تريد به وجه الله، فلک وجه الله و سلف تريد به وجه صاحبه فليس لك إلا وجهه، وسلف أسلفت لتأخذ خبيثا بطيب قال: فكيف تأمرني؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.