Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اللہ کو بھگوان کہنا کیسا ہے؟

Fatwa no.
826-Web
Issued
08 جمادی الثانی 1444ھ /01 جنوری 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اللہ پاک کو ایشور ، رام یا بھگوان یا گاڈ کہہ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

اللہ تعالیٰ کو رام یا بھگوان کہنا تو کفر ہے، لیکن ایشور ہندی زبان میں معبودِ بر حق کے ناموں میں سے ایک ہے اور بظاہر اس کے معنی میں کوئی خرابی نہیں جیسے ہندی زبان کے دیگر ناموں مثلارام و غیرہ میں ہے، لہذا اللہ تعالی کو ایشور کہنا جائز ہے۔ اسی طرح لفظ گاڈ کا معنی محافظ ہے اور یہ بھی خدا کے لئے استعمال ہوتا ہے لہذا اس لفظ کا استعمال کرنا بھی جائز ہے لیکن چونکہ خدا کو ایشور کہنا ہندوؤں کا اور گاڈ کہنا عیسائیوں کا عرف و شعار ہے اس لئے اللہ تعالی کو ایشوریا گاڈ کہنے سے بچنا چاہیے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.