Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جرابیں پہن کر ٹخنے چھپ جاتے ہیں ،اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہوگا ؟
- Fatwa no.
- 830-Web
Question
حکم ہوگا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جرابیں پہنی ہوئی ہوں، تو مختے چھپ جاتے ہیں، کیا اس صورت میں جرابیں پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا جرائیں اتار کر ہی نماز پڑھنی ہو گی تاکہ ٹخنے ظاہر ہو جائیں ؟
Answer (beginning)
جرابیں پہننے کی وجہ سے ملنے چھپ جائیں، تو اس حالت میں نماز میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں، اس لیے نماز پڑھتے ہوئے جرابیں اتارنے کی حاجت نہیں۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ ”جرابیں پہن کر پاؤں میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ زید کہتا ہے کہ جبکہ ان کے پہننے سے مختنے بند ہو گئے، تو نماز مکروہ ہو گی۔“ آپ رحمہ اللہ علیہ اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: "زید کا قول غلط ہے، موزے پہن کر نماز پڑھنا بہتر ہے (فتاوی رضویه، جلد 07، صفحه 301، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.