Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسلمان کا ہندوؤں کی طرح ماتھے پر ٹیکہ لگانا؟

Fatwa no.
827-Web
Issued
08 جمادی الثانی 1444ھ /01 جنوری 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص ہندوؤں کی طرح اپنے ماتھے پر قشقہ (ٹیکہ ) لگائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

قشقہ (ٹیکہ ) خاص شعار کفر ہے المزار ضامندی کے ساتھ قشقہ (ٹیکہ لگانے والے پر حکم کفر ہے اس پر تو بہ تجدید ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدید نکاح لازم ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: " قفے (ٹیکا) کہ ماتھے (یعنی پیشانی پر لگایا جاتا ہے صرف شعار تظار نہیں بلکہ خاص شعار (یعنی کفر کا طور طریقہ) بلکہ اس سے بھی اخبث ( یعنی ناپاک ترین ( خاص طریقہ عبادتِ مہادیو وغیرہ اصنام (یعنی بتوں کی پوجا پاٹ کے طریقے) سے ہے۔ اس کے لگانے پر راضی ہونا کفر پر رضا ہے اور اپنے لئے ثبوتِ کفر پر رضا بالا جماع کفر ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.