Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جو نمازِ تہجد کا عادی ہو،کیا اس کے تہجد چھوڑ دینے پر قضا لازم ہوگی ؟

Fatwa no.
824-Web
Issued
08 جمادی الثانی 1444ھ /01 جنوری 2023ء

Question

ہوگی؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو نماز تہجد کا عادی ہو جائے، کیا اس پر نماز تہجد واجب ہو جاتی ہے اور اگر کبھی چھوڑ دے تو اس کی قضاء بھی لازم ہو

Answer (beginning)

جو نماز تہجد کا عادی ہو جائے اس پر بھی نماز تہجد واجب نہیں ہو جاتی اور اگر کبھی رہ جائے تو اس کی قضا بھی نہیں ہے، البتہ جب عادی ہو جائے تو اب مناسب اور بہتر یہی ہے کہ اپنی اس اچھی عادت کو ہر گز ختم نہ ہونے دے۔ بہار شریعت میں ہے: "جو شخص تہجد کا عادی ہو بلا عذر اسے چھوڑ نا مکروہ ہے کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے ارشاد فرمایا: اے عبد اللہ ! تو فلاں کی طرح نہ ہونا کہ رات میں اٹھا کرتا تھا، پھر چھوڑ دیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.