Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر شخص کا قعدہ اخیرہ میں مقیم امام کے ساتھ نماز میں شامل ہونا
- Fatwa no.
- 811-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر مسافر مقتدی نے ظہر کی نماز میں مقیم امام کی اقتدا اس انداز میں کی کہ وہ امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں شامل ہوا، تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسافر مقتدی دور کعت ادا کرے گا یا اس کو پوری چار رکعت ادا کرنا ہوں گی؟
Answer (beginning)
مسافر مقتدی پر امام کی اقتدا میں نماز مکمل پڑھنا لازم ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں ظہر کی نماز میں امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں شرکت کرنے والے مسافر مقتدی پر مکمل نماز پڑھناضروری ہے ، وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد چار رکعت مکمل پڑھے گا۔ ہدایہ شریف و تبیین الحقائق میں ہے: ” ان اقتدی مسافر بمقیم فی الوقت صح واتم هكذا روى عن ابن عباس و ابن عمر ولانه تبع لا مامه فیت غیر فرضه الى اربع یعنی چار رکعت والی فرض نماز میں ) اگر وقت کے اندر مسافر نے مقیم کی اقتدا کی، تو درست ہے اور نماز پوری پڑھے گا ایسا ہی حضرت ابن عباس و حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ مقتدی عام کے تابع ہے،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.