Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تنہا نماز پڑھنے والا کن نمازوں میں بلند آواز سے قراءت کر سکتا ہے ؟

Fatwa no.
807-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص تنہا نماز پڑھ رہا ہو ، تو کون سی ایسی نمازیں ہیں جن میں وہ بلند آواز سے قراءت کر سکتا ہے؟

Answer (beginning)

جن نمازوں میں امام پر جہری ( یعنی بلند آواز سے قراءت کرنا واجب ہے جیسے فجر و مغرب و عشا کی پہلی دور کعتوں میں، تراویح اور رات کے نوافل کی تمام رکعتوں میں ، تو ان نمازوں میں منفر د یعنی تنہا نماز پڑھنے والے کو اختیار ہے کہ سری قراءت کرے یا جبری، اور جہر سے قراءت کرنا اس کے لئے افضل ہے بشر طیکہ وہ اس کی ادا نماز ہو ، قضا نہ ہو۔ البتہ جن نمازوں میں امام پر سری ( یعنی آہستہ آواز سے قراءت کرنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی نماز اور دن کے نوافل، یہ نمازیں تنہا پڑھنے والے پر بھی سری قراءت کرنا واجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.