Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غریبوں کو حصہ نہ دینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 818-Web
- Issued
- 22 جمادی الاولی 1444ھ /17دسمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قربانی کا ایک حصہ غریبوں میں نہ بانٹنے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
مستحب اور بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں، ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لئے رکھے، ایک حصہ دوست احباب میں بانٹے اور ایک حصہ فقراء و مساکین میں بانٹا جائے، البتہ اگر کوئی شخص اپنے قربانی کے جانور کا سارا گوشت خود رکھ لیتا ہے، فقراء میں نہیں بانٹتا تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم عالم الان العلامت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.