Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سخت مجبوری میں اپنے اعضاء مثلا گردے وغیرہ بیچنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 801-Web
- Issued
- 27 جمادی الاولی 1444ھ /22 دسمبر 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص بے روز گار ہو ، مقروض بھی ہو اور کہیں سے کوئی آسرا بھی نہ ہو، تو ایسی صورت میں رقم حاصل کرنے کے لئے اپنے اعضاء میں سے کوئی ایک عضو مثلاً اپنا گردہ کسی ضرورت مند کو بیچ سکتا ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ انسان وہی چیز بیچ سکتا ہے جس کا وہ خود مالک ہو اور وہ شے قابل تملیک بھی ہو یعنی کسی اور کو اس کا مالک بنایا جا سکتا ہو۔ انسانی اعضاء نہ تو مال ہیں اور نہ ہی ملکیت کا محل ہیں، بلکہ یہ تمام اعضاء بندے کے پاس اللہ پاک کی امانت ہیں، لہذا اسخت مجبوری میں بھی کسی کو اپنے اعضاء میں سے کوئی بھی عضو فروخت کرناہر گز جائز نہیں۔ اپنے خالق و مالک عز و جل پر بھر وسہ کر کے جائز طریقوں سے رزق حلال کمانے کی کوشش جاری رکھیں۔ ان شاء اللہ عز و جل رب تعالی ضرور کرم فرمائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.