Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر کوئی عمرہ کا دم ادا نہ کرے تو کیا حکم ہوگا؟
- Fatwa no.
- 794-Web
- Issued
- 11 جمادی الاوّل 1444ھ/06دسمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عمرہ میں لازم ہونے والا دم اگر اد انہیں کیا اور پاکستان واپس آگئے ، تو اب کیا حکم ہوگا اور اگر کوئی دم ادا ہی نہ کرے، تو اس پر کیا حکم ہو گا ؟
Answer (beginning)
عمرے میں دم واجب ہونے سے مراد کسی جنایت کی وجہ سے بکرے، بکری یا بھیٹر وغیر ہ کی قربانی واجب ہونا ہے۔ اگر کسی پر دم واجب ہوا تو اس پر دم کی ادائیگی واجب ہو گی، ہاں فوری ادائیگی واجب نہیں بلکہ تاخیر کرنا بھی جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ فورا ادا کر دے، اور اگر ایسی حالت ہو جائے کہ زندہ رہنے کی امید نہ رہے تو اب فوری ادا کر دے کہ اگر بلا عذر شرعی ادا کیے بغیر مر گیا تو گناہگار ہوگالہذا ادا کر دے یا ورثاء کو اپنی طرف سے دم ادا کرنے کی وصیت کر جائے اور اگر اس نے وصیت نہیں کی تو ورثاء اپنی طرف سے بھی اس پر لازم آنے والا دم ادا کر سکتے ہیں نیز کفارے کی قربانی حرم ہی میں کی جاسکتی ہے، پاکستان وغیرہ،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.