Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زخم سے پیپ نکلتی ہے لیکن بہتی نہیں، صفائی کرنے کے بعد پھر نکل آتی ہے ، اس صورت میں وضو کا حکم ؟
- Fatwa no.
- 795-Web
- Issued
- 26 جمادی الاول 1444ھ /22دسمبر 2022ء
Question
زخم سے پیپ نکلتی ہے لیکن بہتی نہیں ہے صفائی کرنے کے باوجود حرکت کرنے کی صورت میں دوبارہ نکلتی ہے ،اس صورت میں وضو کا کیا حکم ہوگا؟
Answer (beginning)
اگر یپ صرف چنکی، ظاہر ہوئی لیکن اپنی جگہ نہیں چھوڑی یعنی بہنے کی مقدار میں نہیں، تو وضو نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر اپنی جگہ چھوڑ کر بہہ گئی یا بہنے کی مقدار میں تھی اگر چہ بار بار صاف کرنے کی وجہ سے نہ یہی، لیکن اگر صاف نہ کرتے تو بہہ جاتی اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز کے لئے دوبارہ وضو کرنا ہو گا۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "خون یا پیپ یا زرد پانی کہیں سے نکل کر یہا اور اس پہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وضو جاتا رہا اگر صرف چمکایا ابھرا اور بہا نہیں جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون اُبھریا چمک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.