Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اگر وضو کرنے میں شک ہو کہ کیا تھا یا نہیں، تو کیا حکم ہے ؟

Fatwa no.
786-Web:

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اگر وضو کرنے میں شک ہو کہ کیا تھا یا نہیں، تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا ؟

Answer (beginning)

اگر وضو ٹوٹنے کا یقینی طور پر معلوم ہو کہ فلاں ٹائم باتھ روم گیا تھا یا فلاں وجہ مثلار یح وغیرہ سے وضو ٹوٹا تھا لیکن اس بات میں شک ہو کہ اس کے بعد وضو کیا تھا یا نہیں تو دوبارہ وضو کر نالازم ہو گا۔ اس کے برعکس اگر وضو کرنے کا یقینی طور پر معلوم ہو لیکن وضو ٹوٹنے نہ ٹوٹنے میں شک ہو تو دوبارہ وضو کی حاجت نہیں کہ صرف شک کی بنیاد پر وضو ٹوٹنے کا حکم نہیں ہوتا۔ عمدۃ القاری میں ہے: ”من تیقن الطهارة وشك في الحدث يحكم ببقائه على الطهارة، وأما اذا تيقن الحدث وشك في الطهارة فانه يلزمه الوضوء بالاجماع ، یعنی: جس کو طہارت کا یقین ہو لیکن حدث میں شک ہو تو اس کی طہارت ہونے کا ہی حکم دیا جائے گا ہاں جب حدث…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.