Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا کفریہ وسوسے آنے سے ایمان چلا جاتا ہے؟
- Fatwa no.
- 772-Web
- Issued
- 10 جمادی الاوّل 1444ھ /05دسمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کو ایسے وسوسے آرہے ہوں جن کے بارے میں اس کو پتہ نہیں کہ یہ کفریہ ہیں یا نہیں، تو کیا حکم ہے ؟
Answer (beginning)
ذہن میں کفریہ وساوس آنے سے ایمان نہیں جاتا البتہ ان وسوسوں کو برا سمجھنا ہی عین ایمان ہے ، وسوسوں سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنی چاہئے ، شیطان ایسے وسوسے مسلمان کے دل میں ڈالتا ہے تاکہ وہ اپنے ایمان سے مایوس ہو جائے، لہذاان وسوسوں کی طرف ہر گز توجہ نہ کی جائے۔ مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے: " عن أبى هريرة قال جاء ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به. قال:”وقد وجدتموه“.قالوا نعم.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.