Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنے کزن کی لڑکی سے شادی ہوسکتی ہے یا نہیں ؟

Fatwa no.
771-Web
Issued
19 جمادی الاول 1444ھ /14دسمبر 2022ء

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اپنے کزن کی لڑکی سے شادی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ رضاعت وغیر ہ کارشتہ بھی نہیں ہے۔

Answer (beginning)

اپنے کزن کی لڑکی سے شادی کرنا جائز ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ حرمت کے تین اسباب ہیں نسب، صہریت (سسرالی رشتے) اور رضاعت یعنی دودھ کارشتہ ۔ پوچھی گئی صورت میں حرمت رضاعت اور صہریت کا تو کوئی معاملہ نہیں زیادہ سے زیادہ نسب کا مسئلہ زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ شریعت مطہرہ کے قوانین کے مطابق یہاں پر نسب کی بنیاد پر بھی حرمت کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی اس لیے کہ اپنے کزن کی لڑکی سے نکاح کی شریعت میں کوئی ممانعت نہیں۔ نیز یہ بات بھی واضح ہے کہ جب خود کزن محرم ہے کہ جب خود کزن " نہیں ہے کہ کزن سے نکاح کیا جا سکتا ہے تو اس کی اولاد بھی محرم میں داخل نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.